Posts

سوال

Image
وہ ایک کھلنڈرا  سا نوجوان تھا جس نے نہ تعلیم حاصل کرنے میں دلچسبی لی اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھا۔ گھر سے بستہ اٹھا کر وہ روزانہ سکول تو جاتا تھا   لیکن   سارا   دن کسی پارک میں گزار دیتا ۔   پھر اسکی دوستی کچھ مزید آوارہ بچوں سے   ہو گئی جو نشہ کرتے تھے۔ سگریٹ کا  وہ بہت پہلے سے ہی شوقین تھا اور اب اس نے چرس بھی پینی شروع کر دی۔ گھر سے جو دو چار روپے ماں دیتی تھی اس میں سگریٹ بیڑی تو آ جاتی تھی لیکن   چرس کا خرچہ پورا کرنے کے لیے اس نے پاکٹ مارنے شروع کر دیے۔ پارک میں خفیہ ملاقاتوں پر آئے جوڑوں سے بھی کچھ بخشیش مل جاتی تھی ۔ کافی دفعہ پولیس سے مڈبھیڑ ہوئی ۔ ایک   بار تو   چند راتیں تھانے میں  گزارنی پڑیں۔ حوالات میں اسکی دوستی   جیرا بلیڈ سے ہو گئی  اور   اس طرح   وہ   باقاعدہ جرائم کی دنیا میں داخل ہو گیا۔ "سر، یہ آپ کس کی کہانی لکھ رہے ہیں۔۔۔؟" میری کرسی کے پیچھے کھڑے عامر نےمتجسس انداز میں  سوال کیا۔ میں نے مڑ کر عامر کو  دیکھا جو میری کمپیوٹر سکرین پر نظر جمائے کھڑا تھا۔ وہ ہمارے دفت...

پری

Image
ولادمیراناتولی ایک معروف روسی کوہ پیما  تھا۔ تیس سال کی عمر تک پہچنے سے پہلے ہی وہ دنیا کی دس بڑی چوٹیاں سر کر چکا تھا۔ ان دنوں وہ اسی کشمکش میں لگا رہتا تھا کہ اب کیا کرے۔ ماسکو کے ریڈ سکوائر سے ملحقہ اپنے پینٹ ہاوس میں تیسویں سالگرہ کے موقع پراس نے اپنے گنے چنے دوستوں اورشہر کی چند چیدہ شخصیات کو مدعو کیا اور کیک کاٹنے سے پہلے ایک اعلان کر کے لوگوں کو حیران کر دیا۔ سب جانتے تھے کہ اناتولی اپنی بات کا پکا ہے اور وہ اپنے ارادے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا اس لیے اسے سمجھانا بےسود تھا۔ کچھ دوستوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور کچھ نے تفِ افسوس مَلا۔ پارٹی میں موجود بیشترخواتین نے  حیرت کے مارے اپنی انگلیاں  چبا ڈالیں۔ اگلی صبح روس کے تمام اخباروں نے پہلے صفحہ پر جلی حروف میں خبر لگائی: "ولادمیراناتولی  دیومالائی مخلوق  پریوں کی تلاش میں ماونٹ قاف کا سفر کرے گا۔" کچھ نے تو اسے دیوانے کا خواب کہا اور کچھ نے اس معرکے کو اناتولی کی زندگی کا آخری سفر قرار دے دیا۔ ماونٹ قاف روس کے شمال مغرب میں واقع ایک دشوار گزار پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہ سال کے بارہ مہینے برف سے ڈھکا رہن...

نصیب

Image
Short Story by Nadeem Alam اڈے پر بیٹھا ہوا فقیر محمد اپنے نصیب کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ کل بھی دیہاڑی نہیں لگی تھی اور آج  بھی آدھا دن انتظار میں گزر چکا تھا۔ بھوکے پیٹ فقیر محمد نے مایوسی کی اتھا گہرائیوں میں اترنا شروع کر دیا۔ وقت کے دھارے کو الٹا چلاتا وہ بیس سال پیچھے پہنچ گیا۔ دسویں جماعت کے بورڈ کا امتحان تھا اور فقیر محمد ساری رات بیٹھا انگریزی کے پرچے کی تیاری کرتا رہا تھا۔ تھوڑی دیر آنکھ  لگ گئی تو فجر کی جماعت نکل گئی۔ فقیرمحمد پانچ وقت کا پکا نمازی تھا۔ مولوی صاحب اسکو بہت پسند کرتے تھے اور اکثر اسے نصیحت کرتے رہتے تھے۔ فقیرمحمد کا والد فوت ہوچکا تھا اور وہ اپنی ماں کا واحد سہارا تھا۔ اسکی ماں لوگوں کے برتن مانجھ کر اسے اور اسکی چھوٹی بہن کو پڑھا رہی تھی۔ فقیرمحمد بھی دوسرے بچوں کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا انسان بننا چاہتا تھا اسلئے وہ خوب دل لگا کر پرچوں کی تیاری کررہا تھا۔ دوسرے دن بھی جب فقیر محمد کی فجر کی جماعت رہ گئی تو ظہرکی نماز کے بعد مولوی صاحب نے اسے روک لیا۔ سب نمازیوں کے جاتے ہی مولوی صاحب نے اسے اپنے قریب بلایا اورصبح مسجد نہ آنےکی وجہ دریافت کی۔ ف...

قیمت

Image
Short Story by Nadeem Alam "ہرچیزکی قیمت ہوتی ہے۔ بولو کیا قیمت ہے تمھاری؟" اس نے بہت رعونت سے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔ "میں کوئی چیز نہیں ہوں خان۔ میں ایک انسان ہوں۔" میں نے غصے سے اپنے آفس میں کھڑے کامران خان کو جواب دیا اور ساتھ ہی گھنٹی بھی بجا دی تاکہ گارڈ کو بلوا کر اس بد تمیز شخص کو باہر پھنکوا دوں۔ اس سے پہلے کہ باہر سے کوئی آتا، کامران خان نے اپنا کارڈ میری میز پر چھوڑا اور یہ کہتے ہوئے خود ہی چل دیا: "ہر نیا آنے والا آفیسر شروع میں یہی کہتا ہے۔ جب اپنی قیمت کا تعین کرلوتومجھے کال کرلینا۔" کامران خان کا وزیٹنگ کارڈ میری لمبی چوڑی میز کے پرلے کونے پر پڑاجیسے میرا منہ چِڑا رہا تھا۔ سارا دن اپنے کام میں مصروف رہا۔ کبھی فون، کبھی مہمان اور فائلوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔   بیچ بیچ میں جب بھی میری نظر اس کارڈ پر پڑتی تو میرے کانوں میں کامران خان کی آواز گونگجنے لگتی: "جب اپنی قیمت کا تعین کرلوتومجھے کال کرلینا۔" جب اپنی قیمت کا تعین کرلوتومجھے کال کرلینا۔" جب اپنی قیمت کا تعین کرلوتومجھے کال کرلینا۔" او...

قربانی

Image
Short Story by Nadeem Alam شازیہ کا آج بی اے کا آخری پرچہ تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اس کے سارے پرچے اچھے ہو ۓ تھے اوراسے ایم اے میں سکالرشپ ملنے کی پوری امید تھی۔ دوستوں سے الودآعی ملاقات کرکے وہ جونہی امتحانی مرکز سے باہر نکلی تو سامنے ہی اپنے کالج کی ٹیچرمسزعلی مل گئیں۔ شازیہ نےانہیں سلام کیا۔ مسزعلی نے سلام کا جواب دیتے ہوئے پوچھا: " شازیہ، پرچے کیسے ہوئے ہیں؟"   شازیہ مودبانہ انداز میں بولی: " مس، بہت اچھے ہوئے ہیں۔ آپ کیسی ہیں؟ بہت دنوں بعد نظرآئی ہیں آپ!" مسزعلی نے مسکرا کر شازیہ کو دیکھا اور معنی خیزانداز میں بولیں: "تمھاری یہ شکایت بھی جلد دور ہو جائے گی۔" یہ کہہ کر وہ چل پڑیں۔ شازیہ کو بات تھوڑی بہت توسمجھ آ گئی اسلیئے وہ شرما سی گئی۔ مسزعلی، شازیہ کے محلے میں رہتی تھیں اورانہیں شازیہ بہت اچھی لگتی تھی۔ انہوں نے چپکے سے اسے اپنی بہوچن لیا   تھا اور تو اور مسزعلی نے اپنے بیٹے عدنان سے ہاں بھی کروا لی تھی۔ اب تو صرف رشتہ مانگنے جانا تھا اور مسزعلی کو پورا یقین تھا کہ وحید صاحب اتنے اچھے رشتے سے کبھی انکار نہیں کریں گے۔ حال ہ...